پاکستان پر مسلط بیرونی قرض کی منسوخی

حالیہ سیلاب کے نتیجے میں ٤٣ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان کے عرصہ دراز سے تکلیف میں مبتلا عوام فوری طور پرتو قحط کے خطرے سے دوچار ہیں. جبکہ اسکی معیشت بھی تباہی کے دہانے پر کھڑی نظر آتی ہے.

اگرچہ بامعنی امداد اور بحالی کی حکومتی صلاحیت محدود ہے لیکن یہ استدلال بھی قبل غور رہے کہ سرکار کے پاسس سرمایہ کی سخت کمی ہے. جس کی ایک وجہ پاکستان کا بری طرح قرضوں میں جکڑے ہونا ہے.اس وقت پاکستان مجموعی طور پر ٥٥ ارب ڈالرکا مقروض  ہے. جبکے  اگلے چند سالوں میں  یہ رقم ڈرامائی انداز میں بڑھ کر٧٤ ارب ڈالر ہو جائے گی. معاشی سال ٢٠٠٩-١٠ میں پاکستان نے ٣ عشاریہ ٤ ارب ڈالر قرضوں کی مد میں ادا کیے جو کے اسکی مجموعی قومی پیداوار کے ٣٣ فیصد ہے.  ایک  تو ویسے ہی  قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت تھا لیکن سیلاب  کے بعد تو یہ ‘تحفہ’  ملکی معیشت کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے.

پاکستان بنیادی طور پر جن عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض ہے انکا  ہمیشہ سے مطالبہ, غریب کش اور امرا نواز پالیسیوں کا نفاز رہا ہے. کیونکے پاکستان کے زیادہ تر قرضے فوجی آمروں(ایوب – ضیاء – مشرّف) کے زمانے میں لئے گیے اس لئے عالمی مالیاتی ادرارے مجودہ صورت حال میں  برابرکے ذمےدار ہیں.  لہٰذا  یہ جمہوریت اور عوام کے مفاد میں  ہے کے  نہ صرف ان اداروں کی سامراجیت کو للکارا جائے بلکہ فیصلہ کن شکست دے جائے.

حالیہ وقتوں میں نادہندگان ممالک (ہیٹی) کی ایسی مثالیں موجود ہیں جنکے قرضے فطری تباہ کاریوں کے بعد منسوخ کر دیۓ گئے.عالمی برادری کے ایسے اقدامات کی جڑیں ان مسلمہ قانونی روایات میں ہیں جو بنیادی  انسانی حقوق کے غیر متبدل ہونے پر زور دیتے ہیں. سیلاب کے بعد کا پاکستان انہی قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر اپنے بیرونی قرضوں کے ایک بڑے حصّے کی منسوخی کا اہل ہے. علاوہ ازیں پاکستان پر موجود زیادہ تر قرض  تو عوام کے لئےویسے ہی کریہہ رقم کا درجہ رکھتا ہے. کیوں  کے عام شہریوں کا قرض لینے کے فیصلے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا.
ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں غیر جمہوری حکمرانوں کا لیا ہوا قرض عوام سے بمع سود وصول کرنے کی بجائے منسوخ کر دیا گیا. واضح معاشی اور سماجی وجوہات کے علاوہ عالمی برادری کےلئے پاکستان کے قرضوں کی منسوخی میں  دور رس سیاسی نتائج بھی موجود  ہیں. اول تو یہ کہ کالعدم مذہبی جماعتیں جو ریلیف کے کاموں میں ہمیشہ سے پیش پیش رہیں ہیں اب بھی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں. ملک کے کچھ  حصّوں میں تو  مدد کا دارومدار صرف انہی جماعتوں پر ہے اس صورت حال میں یہ اشد ضروری ہے کہ حکومتی آمدن میں اضافہ کیا جائے تاکہ یہ نادیدہ قوتیں  سماجی خلا پر کرنے کے بہانے  لوگوں کو اپنے مقاصد کیلیے استعمال نہ کر سکیں.دوسرے یه کہ  سیلاب سے نمٹنے کی حکومتی ناکامیاں میڈیا اور شہری متوسط طبقے کی مدد سے  فوجی اقتدار کی فرمائش میں نمو پا رہی ہیں. درمیانی مدت میں آنے والا معاشی بحران ان فرمائشوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے جو آخر کر آمریت پر منتنج ہو گا.
پاکستان کے قرضوں کا بحران اب ری شیڈولنگ، جیسا مشرف دور میں ہوا تھا،کے ذریعے بھی ممکن نہیں. یہ ترکیب صرف وقتی طور پر تو مسئلے کو دبانے کا طریقہ تو ہو سکتی ہی لیکن آنے والے سالوں میں مزید تباہی کا موجب بنے گی. آخر کار صرف قرضوں کی منسوخی ہی ملک کا معاشی خسارہ کم کرنے اور اپنے وسائل کو سیلاب زدگان کی آبادکاری کی طرف موڑنے میں مدد دے سکتی ہے. کیوں کہ یہ مشق سیاسی نظام کی بقا کا ضامن  بھی ثابت ہو سکتی ہے اسی لئے اس معاملے پر پارلیمانی اتفاق رائے وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے

یہ مضمون تحریک منسوخی قرضاجات کی طرف سے جاری ہونے والے

وائٹ پپر کا ترجمہ ہے.

Explore posts in the same categories: Uncategorized

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.